نئی دہلی،29؍ اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) جموں وکشمیر سے دفعہ 370 کے خاتمہ کے بعد تشویشناک صورتحال پر ہندوستان ہی نہیں بلکہ یوروپی یونین سمیت مختلف ممالک نے جہاں اپنی رائے کا اظہارکیا وہیں ہندوستان نے ہر پلیٹ فارم پر کشمیر کی بہتر صورتحال کا دعویٰ کیا حالات سے آگہی اورعوام کے مسائل سننے کے لئے سیاسی، سماجی کارکنوں نے کشمیر کے دورہ کی اجازت چاہی لیکن حکومت ہند نے اسے نہ صرف یہ کہ سختی سے منع کیا بلکہ بعض ارکان کو سری نگر ایرپورٹ سے لوٹا دیا جس میں راہل گاندھی بھی شامل تھے -یوروپی یونین پارلیمانی اراکین کا ایک وفد ہندوستان کے دورہ پر ہے جہاں اس نے وزیراعظم مودی سے کشمیر جانے کی اجازت مانگی- وزیراعظم نے نہ صرف یہ کہ اسے اجازت دی بلکہ یہاں تک کہا کہ آپ کو وہاں ریاست کی ترقی اور عوام کی خوشحالی نظر آئے گی- واضح رہے کہ کشمیر کو دومرکزی علاقوں میں تقسیم کرنے کے بعد کسی بین الاقوامی ادارے کے اراکین کا یہ پہلا دورہ ہے - اس اجازت پر کانگریس نے مودی حکومت کی پالیسی پر سوال اٹھایا ہے - کانگریس نے اسے ملک کی پارلیمان اور جمہوریت کی توہین قرار دیا ہے -کانگریس نے یہ بھی سوال کیا کہ اگر یوروپی یونین اراکین پارلیمان کے ایک وفد کو جموں کشمیر جانے کی اجازت دی جاسکتی ہے تو حزب اختلاف کو یہ موقع کیوں نہیں دیا جارہا ہے - کانگریس کے علاوہ خود بی جے پی کے راجیہ سبھا کے رکن سبرامنیم سوامی نے نریندرمودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کے اس فیصلہ پر حیرانی کا اظہارکیا ہے -کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے ٹوئٹ کیا ہے کہ جب ہندوستانی لیڈروں کو جموں وکشمیر کے لوگوں سے ملنے سے روکاجارہا ہے - محب وطن کا دعویٰ کرنے والے مودی نے کیا سوچ کر یوروپی یونین کے وفد کو کشمیر جانے کی اجازت دی ہے -یہ ہندوستان کے اراکین پارلیمان اور جمہوریت کی توہین ہے -انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ یوروپی یونین کے دورہئ کشمیر کے دو پہلو ہیں - پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی بھی دیگر ملک یا اس کے ممبران پارلیمان کو جموں وکشمیر میں داخل ہونے کا کوئی اختیار نہیں ہے - کیونکہ یہ ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے -دوسری بات یہ ہے کہ ملک خاص طورپر حزب اختلاف یہ جاننا چاہتا ہے کہ جب پی ایم او یوروپی یونین کے ایک وفد کی میزبانی کرسکتا ہے اور ان کے دورہئ جموں وکشمیر کے لئے بہتر انتظامات کرسکتا ہے تو یہی سلوک حزب اختلاف کے ساتھ کیوں نہیں -بی جے پی کے راجیہ سبھا ممبر سبرامنیم سوامی نے ٹوئٹ کرکے کہاکہ میں حیران ہوں کہ وزارت خارجہ نے یوروپی یونین کے اراکین پارلیمان کو جموں وکشمیر کے نجی دورہ کا انتظام کیا ہے - یہ ہماری ملک کے پالیسی کے خلاف ہے - مودی سرکار سے یہ گزارش ہے کہ وہ یوروپی یونین کے اس دورہ کو رد کریں - واضح رہے کہ یوروپی یونین کا دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب امریکی رکن پارلیمان کے ایک گروپ نے کشمیر کے حالات پر تشویش کا اظہارکیا ہے -سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یہ مودی کا منصوبہ بند طریقہ ہے؟ تاکہ ہندوستان کے باہر کشمیر پر مودی حکومت کے دعوے کے مطابق تفصیلات سے دنیا کو باخبر کیا جائے -قبل ازیں وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو یہاں وفد کے ممبروں سے ملاقات کے دوران وفد کے جموں و کشمیر کے دورے کی تصدیق کی- گفتگو کے دوران مودی نے کہا کہ دہشت گردی کو فروغ دینے والوں اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی حمایت کرنے والوں کے خلاف فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے - پاکستان کا نام لئے بغیر انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو پالیسی کے طور پر استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے - انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو ہر گز برداشت نہیں کیا جانا چاہئے -وزیر اعظم آفس کے مطابق مودی نے علاقائی اور عالمی امور پر یورپی یونین کے ساتھ بامعنی بات چیت پر زور دیتے ہوئے، دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے وسیع بین الاقوامی تعاون پر زور دیا- انہوں نے بین الاقوامی شمسی اتحاد کے ظہور کو بھی عالمی شراکت دار قرار دیا-مودی نے وفد کا استقبال کیا اور امید ظاہر کی کہ جموں و کشمیر سمیت ملک کے مختلف حصوں میں ان کا دورہ معنی خیز ہوگا- جموں وکشمیر کے دورے سے وفد کو لداخ سمیت پورے خطے میں مذہبی اور ثقافتی تنوع کے بارے میں معلومات فراہم ہوں گی اور اس کے بارے میں ان کی تفہیم میں اضافہ ہوگا- اس کے علاوہ، وفد کو علاقے میں ترقی اور گورننس کے بارے میں صحیح تصویر بھی دیکھنے کو ملے گی-